Featured Posts

[Travel][feat1]

231

May 17, 2022

 
























231 231 Reviewed by s on May 17, 2022 Rating: 5

"نماز سے دُوری منافقت کی علامت " : رانیا میر

October 12, 2019


مسلمان ہونے کی وجہ سے ہم سب پر پانچ نمازیں فرض ہے، مگر ہمارا مسئلہ کیا ہے ؟ اول تو ہم بالکل نماز نہیں پڑتے اور ڈھیٹ بن کر زندگی گزار دیتے ہیں یا پھر دو پڑھی لی تو تین چھوڑ دی،  تین پڑھ لی تو دو چھوڑ دی، کبھی تو ساری پڑھ لی اور کبھی ایک بھی نہ پڑھی اکثر ہم فجر اور عشاء پڑھنے میں کنجوسی کرتے ہیں -
حدیث کے مطابق :
یہ مفافق انسان کی علامت ہے جو فجر اور عشاء نہیں پڑھتے، منافق کون ہوتا ہے؟
مشرک؟ یہودی؟ کافر؟
نہیں نہیں بلکہ منافق تو مسلمان ہوتا ہے جو نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لا کر بھی دل کے زنگ کو اترنے میں کامیاب نہیں ہو سکا - ایسا شخص ایمان نہیں لاتا بس اسلام قبول کرتا ہے -

اللہ نے بدکار، چور، شرابی، قتل کسی کو منافق نہیں کہا حالانکہ یہ جرم کبیرہ گناہوں میں سے ہیں -

حدیث کے مطابق منافق کی  نشانیاں ہیں -
 جو بات کریں تو جھوٹ بولے، امانت رکھے تو اس میں خیانت کریں، لڑائی کریں تو گالیاں دیں، وعدہ کریں تو وعدے خلاف کریں -

اللہ کے نزدیک منافق بندہ شرابی اور بدکار بندے سے بھی زیادہ بُرا ہے منافقت کا تعلق زبان سے ہے، اور نماز میں رکاوٹ کی سب سے بڑی وجہ بھی ہماری زبان ہی بنتی ہے،
زبان سے غبت کرتے ہوے اتنا وقت ضائع کر دیتے ہیں کے نماز نکل جاتی ہے اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہماری نماز چغلی، غیبت، بغض کی نظر ہوگی، ہمارے حیلے بہانے کسی کام نہیں آنے والے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت، جان مال کی حفاظت کی بھی ذمہ داری ہے یہ سب بھی امانت ہے لیکن جب  زبان ہماری دشمن بن جاتی ہے تو پھر معاملہ بگڑ جاتا ہے ایسے انسان کی دنیا بھی جاتی ہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی ہے،

گناہ کا نشہ انسان کو دوغلا بنا دیتا ہے کہی کا نہیں چھوڑتا،  گناہوں کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے اس سے دُور رہو گئے تب ہی نماز کے قریب آؤ گئے بعض لوگوں کو یہ کہتے بھی سُنا ہے کے فلاں تو چغلی بھی کرتا ہے غیبت بھی کرتا ہے ہر بُرائی کرتا ہے پر فجر اور عشاء پڑتا ہے تو کیا وہ منافق نہیں؟ تب دل کو سمجھایا کریں کے ہمیں تو ظاہر پر معاملہ کرنے کو کہا گیا ہے باقی دلوں کے حال سے رب زیادہ وقف ہے پتا نہیں یہ نمازیں قبول ہوگی بھی کے نہیں نماز پڑھنا ضروری چاہیے باقی یہ بندے اور رب کا معاملہ ہے کے اللہ کس کی نماز قبول کریں گئے اور کسی کی نماز رد کر دی جائے گی، اللہ نیت میں کھوٹ، ملاوٹ برداشت نہیں کرتے، رکاری کرنے ولا بندہ رب کو پسند نہیں ہے، ہمیں اپنا معاملہ رب کے ساتھ درست کرنا ہے باقی کوئی کیا کرتا ہے؟ کتنا مخلص ہے؟ اور اس کی نیت کا کیا حال ہے؟ یہ سب جج کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے، سب اپنے نامہ اعمال لے ذمہ دار خود ہوگئے جیسا کروں گئے ویسا ہی بدلہ پاؤ گئے -
"نماز سے دُوری منافقت کی علامت " : رانیا میر "نماز سے دُوری منافقت کی علامت " : رانیا میر Reviewed by Azam Kamboh on October 12, 2019 Rating: 5

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر || Iqbal

September 02, 2019


گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر

نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر || Iqbal گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر    || Iqbal Reviewed by Azam Kamboh on September 02, 2019 Rating: 5

درد: کنول آمین خرد

February 17, 2019



درد کی  یہ کیسی کتھا عام ہے میرے شہر میں
معصوم پھولوں کا قتل عام ہے میرے شہر میں
ظالم کہاں روتا ہے ،یہاں پر تو ظلم روتا ہے
چھائی کچھ ایسی سیاہ شام ہے میرے شہر میں
اسلام نے اوڑھائی تھی عزت کی ردا جس کو
وہی اب روز ہوتی نیلام ہے  میرے شہر میں
خرد مشکل ہی پڑے تو ہم پڑتے ہیں نمازیں
رہ گیا  مطلب کا اب اسلام ہے میرے شہر میں
درد: کنول آمین خرد درد:  کنول آمین خرد Reviewed by Azam Kamboh on February 17, 2019 Rating: 5

ایک افسانہ: شازے چوہدری

January 27, 2019


کچھ دن پہلے اسکی کال آٸی تو وہ بہت خوش تھی۔ لیکن آج جب کال آٸی تو وہ سسکیاں لے کے روۓ جا رہی تھی۔ میں نے اسکے رونے کی آواز سنی تو میں بہت گھبرا گٸی اور پوچھنے لگ گٸی بتاٶ تو سہی کیا ہوا ہے کیوں ایسے بچوں کی طرح روۓ جا رہی ہو۔ میں نے اسکو چپ کروایا اور رونے کی وجہ پوچھی۔ اب وہ مجھے اپنی ساری بات بتانے لگی کے کچھ دن پہلے کیسے لڑکے والے آٸیں اور وہ چاٸے لے کے گٸی سبکو چاۓ پیش کی اور باہر آگٸی۔ ابھی تھوڑی دیر بعد اسکو آواز لگاٸی گٸی بیٹا چاۓ والے برتن لے جاٸیں ابھی جب وہ روم میں آٸی تو اسکی ہونے والی ساس اور نند نے اسکو اپنے پاس بٹھا لیا اور اب اسکو سر سے پاٶں تک گھورے جا رہی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ کچھ سوال بھی کیے جا رہی ہیں اب لڑکی کے ساتھ بات کر کے اسکو اچھے سے دیکھ کے انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہمیں آپکی بیٹی پسند ہے ہماری طرف سے یہ رشتہ پکا ہے۔ اور وہ لوگ اپنے گھر چل دیے ابھی ایک دوسرے کی طرف آنا جانا بھی لگ گیا ساس اور نند آتی جاتی رہتی چاۓ پانی کرتی اور گھر واپس۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے تو لڑکے والوں کو لڑکی میں خامیہ بھی نظر آنے لگی کبھی کوٸی بات کرتے تو کبھی کوٸی۔ اور ہوا یہ کے کچھ دنوں کے بعد کال کر کے بول دیا ہم یہ رشتہ توڑ رہے ہیں ہمیں تو آپکی بیٹی پسند ہی نہیں وہ ایسی ہے ویسی ہے وغیرہ وغیرہ ابھی کل تک جو لڑکی خوش تھی چہک رہی تھی اج وہ سسکیاں لے لے کے روۓ جا رہی ہے۔ کیا قصور تھا اس کا۔ کہ یہ لڑکی تھی۔ اپنے بیٹوں میں بےشک سو عیب ہوں لیکن بہو ایسی چاہیے جو ایک دم پرفیکٹ ہو۔ خدارا کیوں کرتے ہو ایسا۔ دوسروں کی بچیوں کے ساتھ۔۔ کیوں انکو داغ دار بنا دیتے ہوں کیوں انکو احساس کمتری کا شکار بنا دیتے ہو تم لوگ تو ایسے رشتے کر کے کچھ دن لڑکی والوں کے گھروں سے اچھا چاۓ پانی پی کے پھر اگلا گھر دیکھ لیتے ہو۔ لیکن جس لڑکی کے ساتھ ایسا کرتے ہو وہ بے چاری ٹوٹ کے بکھر جاتی ہے۔ خدارہ ایسا نہ کیا کریں ایسے نہ لوگوں کی بچیوں کی زندگیاں برباد کیا کریں خدا کا خوف کریں۔ دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ ایسا کرتے وقت کم از کم ایک دفعہ یہ ضرور سوچ لیا کریں آپ بھی بیٹیوں والے ہیں کل کو یہی سب آپکی بیٹی کے ساتھ بھی ہو سکتاہے کیونکہ انسان کاٹتا وہی جو بویا ہوتا۔۔  بیٹیوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرہ کرو۔


ایک افسانہ: شازے چوہدری ایک افسانہ:  شازے چوہدری Reviewed by Azam Kamboh on January 27, 2019 Rating: 5

مرنا ہی لابد ہے جینے سے پہلے مر جانے کا مطلب انحطاط نہیں ہوتا : حماد رزاق چدھڑ

January 27, 2019

مرنا ہی لابد ہے جینے سے پہلے مر جانے کا مطلب انحطاط نہیں ہوتا : حماد رزاق چدھڑ مرنا ہی لابد ہے جینے سے پہلے مر جانے کا مطلب انحطاط نہیں ہوتا : حماد رزاق چدھڑ Reviewed by Azam Kamboh on January 27, 2019 Rating: 5

عرش پیکر ہوتے ہیں فقہ عشق کے وہ لوگ روپِ مجاز میں جن کا مقصود مجاز نہیں ہوتا : حماد رزاق چدھڑ

January 27, 2019

عرش پیکر ہوتے ہیں فقہ عشق کے وہ لوگ روپِ مجاز میں جن کا مقصود مجاز نہیں ہوتا : حماد رزاق چدھڑ عرش پیکر ہوتے ہیں فقہ عشق کے وہ لوگ روپِ مجاز میں جن کا مقصود مجاز نہیں ہوتا : حماد رزاق چدھڑ Reviewed by Azam Kamboh on January 27, 2019 Rating: 5

ہم طریق کے گمان سے ہی بھر گیا خانہ دل جب اپنی فنا اپنی بقا مکان اپنا مکین اپنا : حماد رزاق چدھڑ

January 27, 2019

ہم طریق کے گمان سے ہی بھر گیا خانہ دل جب اپنی فنا اپنی بقا مکان اپنا مکین اپنا : حماد رزاق چدھڑ ہم طریق کے گمان سے ہی بھر گیا خانہ دل جب اپنی فنا اپنی بقا  مکان اپنا مکین اپنا : حماد رزاق چدھڑ Reviewed by Azam Kamboh on January 27, 2019 Rating: 5

جہناں ویکھ لیا حسن اپنا اوہ یوسف دی پوجا نہیں کردے : حماد رزاق چدھڑ

January 27, 2019


جہناں ویکھ لیا حسن اپنا اوہ یوسف دی پوجا نہیں کردے : حماد رزاق چدھڑ جہناں ویکھ لیا حسن اپنا اوہ یوسف دی پوجا نہیں کردے : حماد رزاق چدھڑ Reviewed by Azam Kamboh on January 27, 2019 Rating: 5

کوچہ جاناں کی فضا بھی تعجب بادہ خواری بھی بادِ صبا لگتی ہے : حماد رزاق چدھڑ

January 27, 2019

کوچہ جاناں کی فضا بھی تعجب بادہ خواری بھی بادِ صبا لگتی ہے : حماد رزاق چدھڑ کوچہ جاناں کی فضا بھی تعجب بادہ خواری بھی بادِ صبا لگتی ہے : حماد رزاق چدھڑ Reviewed by Azam Kamboh on January 27, 2019 Rating: 5
ads 728x90 B
Powered by Blogger.